12 دسمبر 2015 - 17:37
داعش پچھلے پانچ سال کے دوران تقریبا پانچ ملین بیرل تیل چوری کرچکا ہے

شام کی وزارت پیٹرولیم نے کہا ہے کہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش پچھلے پانچ سال کے دوران تقریبا پانچ ملین بیرل تیل چوری کرچکا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق شام کے شہروں رقہ، حمص، حسکہ، دیرالزور اور مشرقی علاقے میں واقع آئیل فیلڈ داعش کے قبضے میں ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے بحران شام کے آغاز سے نومبر دوہزار پندرہ تک ان علاقوں سے چوری شدہ تیل کا تخمیہ اڑتالیس ملین بیرل لگایا گیا ہے۔ روس کی وزارت دفاع نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ دہشت گرد گروہ داعش تیل کی اسمگلنگ سے سالانہ دو ارب ڈالر کی رقم حاصل کرتا ہے اور جس کا زیادہ تر حصہ دنیا بھر سے دہشت گرد بھرتی کرنے اور ہتھیاروں اورفوجی سازو سامان خریدنے پر صرف ہوتا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کے دلالوں اور ترکی کےراستے تیل کا ایک بڑا حصہ اسمگل کرکے برطانیہ اور اٹلی جیسے یورپی ملکوں کو فروخت کیا جاتا ہے۔ مشرق وسطی کے امور کے ماہر مصطفی تکیک نے روسی خبر رساں ایجنسی اسپوتنک سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تیل اور پیٹرولیم منصوعات تیل کے دلالوں کے ایک بڑے نیٹ ورک کے ذریعے شام سے ترکی منتقل کی جاتی ہیں اور یہ بات بھی پوری طرح واضح ہے کہ ترکی کے بعض تاجر حضرات داعش کے ہاتھوں چوری کئے جانے والے تیل کی یورپی ملکوں کے ہاتھوں فروخت میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ترک حکومت اور توپراش انرجی کمپنی کو داعش کے ہاتھوں چوری کئے گئے تیل کی بڑے پیمانے پر فروخت کا علم نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ قوی امکان یہ ہے کہ تیل کی اس دلالی میں ترک تاجر برابرکے شریک ہیں۔ مصطفی تکیک نے کہا کہ روزانہ تقریبا ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ بیرل تیل ترکی منتقل کیا جاتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ چندایک چھوٹی چھوٹی غیر قانونی فیکٹریاں اتنے تیل کو صاف کرنے کے لیے کافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ داعش کے ہاتھوں چوری کیا گیا تیل عام طور پر ترکی کے صوبے حاتائی کے شہر اسکندرون اور ساحلی شہر مرسین لاکر ذخیرہ کیا جاتا ہے اور پھر اس کا بڑا حصہ بعض دلالوں اور واسطوں سے برطانیہ اور اٹلی جیسے یورپی ملکوں کو فروخت کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے خیال میں ترکی کافی عرصے سے شام اور عراق سے داعش کے ہاتھوں چوری کئے گئے تیل کی منتقلی کا مرکز رہا ہے۔

دوسری جانب یورپی پارلیمنٹ میں پولینڈ کے نمائندے یانوش کوروین مائیک نے کہا ہے کہ ترکی داعش سے آدھی قیمت پر تیل خریدتا ہے اور اسے امریکہ سمیت بہت سے دوسرے ملکوں کو فروخت کردیتا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کے پولش رکن نے واضح کیا کہ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ خود بھی دہشت گرد گروہوں سے تیل خریدتا ہے اور اس طرح اسے کافی فائدہ ہورہا ہے۔یورپی یونین کے پولش رکن نے کہا کہ ان کے پاس موجود اطلاعات کی لبنان کے اعلی سرکاری عہدیداروں نے بھی تصدیق کی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169